بنگلورو،16؍مارچ (ایس او نیوز) آر ایس ایس کے اکھیلا بھارتیہ پرچار پرموکھ (کل ہند سطح پر ذرائع ابلاغ کے ذمہ دار یا ترجمان) ارون کمار نے بتایا ہے کہ آر ایس ایس کی طرف سے ملکی سطح پر 18 سے 30 سال کی درمیانہ عمر کے تقریباً 15 لاکھ افراد کا سروے انجام دیا گیا ہے اور اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ وہ کس حد تک ذمہ دار شہری بن سکتے ہیں اور وہ معاشرہ کی کس حد تک خدمت انجام دے سکتے ہیں، لیکن دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سروے کا یقینی مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ نوجوانوں کے درمیان اپنے ”نظریاتی اثرات“ کو توسیع دی جا سکے۔
ارون کمارنے بتایا کہ نوجوانوں کا سروے پچھلے سال منعقد کیا گیا تھا۔کمار نے بتایا کہ ”اس سروے کا مقصد نوجوانوں کو سمجھنا اور اسبات کا اندازہ لگانا ہے کہ وہ کتنا وقت معاشرہ کے لئے پیش کر سکتے ہیں“، ان کا کہنا ہے کہ ”یہ نوجوان ملک کا مستقبل ہوتے ہیں اور ہم ان کی جانب اس اعتبار سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ ایک بہتر ملک کی تعمیر میں ہماری مدد کریں گے“۔انہوں نے مزیدبتایا کہ نمونہ کا حجم ”ہر ایک ریاست کی آبادی کے تناسب پر تھا“، اور انہیں جو سوال نامہ فراہم کیا گیا تھا اس میں 15 سوالات کئے گئے تھے۔
آر ایس ایس کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ سروے آر ایس ایس کی ایک مہم ”ترونا اودیوگیسوئم سیوک سرویکشن“(نوجوان کاروباری رضاکاروں کا سروے) کا ایک حصہ تھا،اور اس کا مقصد ان نوجوانوں کی نشاندہی کرنا تھا جو آر ایس ایس کی روزانہ کی شاکھاؤں کا حصہ ہوتے ہیں یا پھرجنہوں نے آر ایس ایس تربیتی کیمپوں کو شرکت کی ہے۔
کمارنے بتایا کہ ”ہمارامقصد یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو متحرک کیا جائے،مثال کے طور پر، اگر یہ سروے قبائلی علاقوں میں منعقد کیا گیا ہے تو ان نوجوانوں سے کہا گیا کہ وہ کس حد تک اپنے ماحول اور آس پاس کے علاقے کی ترقی کیلئے اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں، اسی طرح شہری علاقوں کے نوجوانوں سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ماحول کی تعمیر و ترقی کے لئے کیا کر سکتے ہیں“۔آر ایس ایس کارکنان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نوجوانوں سے تین اہم شعبوں کے سلسلہ میں سوالات کئے تھے،تعلیم، صحت اور معاشی قوت و اختیار، کمار نے بتایا کہ سروے کی ”رپورٹ بالکل تیار ہے اور ہم اس پر جاریہ اجلاس میں تبادلہ خیال کریں گے“۔